Finding community and new skills 12,000km from home

Faraz Ahmed Butt

Second year DSCB graduate student, Faraz Ahmed Butt

Leslie Slota-Burtt interview with second year DSCB student Faraz Ahmed Butt:

ڈی ایس سی بی کے دوسرے سال کے طالب علم فراز احمد بٹ کے ساتھ انٹرویو:

So Faraz, I know you are in your second year of graduate school, but can you tell us a little bit about your research project in the Poss lab and what your scientific interests are?

تو فراز ، میں جانتی ہوں کہ آپ اپنے گریجویٹ اسکول کے دوسرے سال میں ہیں ، لیکن کیا آپ ہمیں پوس لیب میں اپنے تحقیقی منصوبے کے بارے میں تھوڑا بہت بتا سکتے ہیں اور آپ کی سائنسی دلچسپیاں کیا ہیں؟

 We are still in the process of molding my project and Ken has been supportive and patient with me. He is helping me incorporate my interests into the project. My interests which are to use imaging tools to observe biological process such as regeneration and development. Therefore, working towards these goals I am developing a fluorescent multicolor labelling system to mark polyploid cells in-vivo. This tool will help provide insight into dynamic roles of polyploid cells in development and regeneration.

میں ابھی بھی میرے پروجیکٹ کو تعمیر کرنے کے عمل میں ہیں اور کین میرے ساتھ تعاون اور صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ میری دلچسپی کو منصوبے میں شامل کرنے میں میری مدد کر رہے ہیں ۔ میری دلچسپیاں یہ ہے کہ ‏‏‏‏‏‏‏‏ حیاتیاتی عمل جیسے تخلیق نو اور نشوونما کے مشاہدہ کے لئے امیجنگ ٹولز کا استعمال کیا جائے۔ لہذا ، ان مقاصد کے حصول  کیلیے میں فلواسینٹ ملٹی کلر لیبلنگ سسٹم تیار کر رہا ہوں تاکہ پولیو پلائڈ سیل کو ان ویو میں نشان لگا سکے۔  اس آلے کی ترقی اور تخلیق نو میں پولیپلائڈ سیل کے متحرک کرداروں کے بارے میں بصیرت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

Can you tell us a little bit about how you went about choosing a lab to join after your rotations, and what advice do you have for first year students going through lab rotations now?

آپ کی روٹیشن کے بعد آپ نے لیب کا انتخاب کیسے کیا ، اور پہلے سال کے طلباء کے لئے آپ کو کیا مشورہ ہے جو اب لیب کی روٹیشن سے گزر رہے ہیں؟

I choose the Poss Lab because of my broad interests aligned with the research being conducted in the lab. It was not just my interests, but I liked Ken’s approach and perspectives towards research.

I would not call myself an expert in giving advice to first year students, but I would say that choosing a lab is a very personal decision. Before deciding talk to people but do not feel pressured by others and choose a lab that aligns with your goals.

 میں نے پوس لیب منتحب کی کیوں کہ لیب میں ہونے والی تحقیقات سے میرے وسیع تر مفادات وابستہ ہیں-

 میں اپنے آپ کو پہلے سال کے طلباء کو مشورے دینے میں ماہر نہیں سمجھتا، لیکن میں یہ کہوں گا کہ لیب کا انتخاب کرنا ایک بہت ہی ذاتی فیصلہ ہے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے لوگوں سے بات کرین لیکن کسی کا  دباؤ محسوس نہ کریں اور ایسی لیب کا انتخاب کریں جو آپکی دلچسپی کے مطابق ہو۔

As a former DSCB student looking back, one of the things that stands out to me is the DSCB Colloquium Course. Could you tell us something that is unique to DSCB that you think is valuable to graduate students?

سابقہ ​​ڈی ایس سی بی طالب علم کی حیثیت سے پیچھے مڑ کر ، ایک چیز جو میرے سامنے کھڑی ہے وہ ہے ڈی ایس سی بی کولکیم کورس- کیا آپ ہمیں ایسی کوئی چیز بتاسکتے ہیں جو  ڈی ایس کے لئے منفرد ہے جو آپ کے خیال میں گریجویٹ  طلباء کیلے قیمتی ہے؟

I agree, the DSCB colloquium has been a unique and valuable experience for me. Reading about research from a new area every week and then hearing about that research for the investigators themselves is very valuable. Furthermore, the smaller group lunches, conversations after their talk and dinners really allowed me to engage in a distinctive manner.

میں اتفاق کرتا ہوں ، ڈی ایس سی بی کالکیوئم میرے لئے ایک انوکھا اور قیمتی تجربہ رہا ہے- ہر ہفتے کسی نئ تحقیق کے بارے میں پڑھنا اور اس کے بعد خود تحقیق کرنے والون سے اس تحقیق کے بارے میں سننا بہت قیمتی ہے۔ مزید یہ کہ چھوٹے گروپ لنچز ، اور ڈنر کے بعد گفتگو نے مجھے واقعی ایک مخصوص انداز میں مشغول رکھا۔

You moved to Durham from Pakistan to start graduate school. Can you tell us a little bit about what is unique about being an international graduate student at DSCB/Duke and what are some of the challenges that are unique to international students?

آپ گریجویٹ اسکول شروع کرنے کے لئے پاکستان سے ڈرہم منتقل ہوے۔ کیا آپ ہمیں ڈی ایس سی بی / ڈیوک میں بین الاقوامی گریجویٹ طالب علم ہونے کے بارے میں انوکھی بات  بتاسکتے ہیں اور کچھ ایسے چیلنج کیا ہیں جو بین الاقوامی طلباء کے لئے منفرد ہیں؟

The unique aspect of Duke is the diverse international community which is further supported by the welcoming international house. Moreover, the DSCB program is a smaller yet a very tightknit community. These aspects combined form a very inclusive environment.

In my perspective a challenge for international students is initially keeping pace with other students who are more aware of the system. This initial barrier of bringing myself to pace was a unique challenge for me.

ڈیوک کا انوکھا پہلو اسکا بین الاقوامی برادری ہے جسے استقبال کرنے والے بین الاقوامی گھر سے مزید تعاون حاصل ہے- مزید یہ کہ ، ، ڈی ایس سی بی  پروگرام ایک چھوٹی سی برادری ہے لیکن ایک بہت ہی سخت گہری برادری ہے- یہ پہلو مشترکہ طور پر ایک بہت ہی جامع ماحول کی تشکیل کرتے ہیں۔

میری نظر میں بین الاقوامی طلبا کو  ابتدائ  میں ایک چیلنج یہ ہے کہ  دوسرے طلبا کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جاے جو اس نظام سے زیادہ واقف ہیں۔خود کو عملی میدان میں لانے کی یہ ابتدائی رکاوٹ میرے لئے ایک انوکھا چیلنج تھا

It’s so important for graduate students to have interests/hobbies outside of the lab. What do you do when you are not in lab and do you think that helps get through the challenges of graduate school?

 گریجویٹ طلباء کےلے لیب سے باہر دلچسپیاں / مختلف شعل  رکھنا بہت ضروری ہے- جب آپ لیب میں نہیں ہوتے، آپ کیا کرتے ہیں اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس سے گریجویٹ اسکول کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے؟

Moving for graduate school was the first time I had to cook for myself. I thought cooking would be a burden, but I really enjoy it now. It’s exciting to find new recipes across different cuisines. This is something I really look forward to for the weekend. I think in some sense it is like planning experiments.

گریجویٹ اسکول کے لئے منتقل ہونے کے بعد مجھے پہلی بار کھانا پکانا تھا- میں نے سوچا تھا کہ کھانا پکانا ایک بوجھ ہوگا ، لیکن مجھے اب واقعی مزہ آتا ہے۔ مختلف کھانوں میں نئی ​​ترکیبیں تلاش کرنا دلچسپ لگتا ہے۔ یہ ایسا کام ہے جسکا  مجھے ہفتے کے آخر میں انتظار ہوتا ہے۔  میرے خیال میں یہ تجربات کی منصوبہ بندی کرنے جیسا ہی ہے –

If you could tell the 1st year graduate student version of yourself one thing, what would it be?

اپنے تجربے کی بنیاد پر آپ اپنے پہلے سال کے ورژن کو کیا ایک چیز  بتائیں گے؟

I would tell myself to interact more with the members of the labs in which I rotated. These interactions not only educated you about people’s projects but also how they find working in the lab. It helps shed light on both the positives and negatives, which I feel is crucial in deciding which lab to join.

میں خود کو کہوں گا کہ میں جس لیب میں  روٹیشن کرون اس کے ممبروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بات چیت کرون۔ یہ گفتگو  آپ کو نہ صرف لوگوں کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے بلکہ یہ بھی کہ انکو لیب میں کام کرنا کیسا لگتا ہے- اس سے مثبت اور منفی دونوں پر روشنی ڈالنے میں مدد ملتی ہے ، جو مجھے لگتا ہے کہ کس لیب میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے میں بہت اہم ہے۔


RNI would like to thank past DSCB graduate student (now postdoctoral fellow) Leslie Slota-Burtt, Ph.D. for interviewing Faraz Ahmed Butt.  We would also like to thank Riffat Jahan for proofreading the translation into Faraz’s native language of Urdu.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.